اسماء المہدی علیہ السلام

by Other Authors

Page 374 of 498

اسماء المہدی علیہ السلام — Page 374

اسماء المهدی صفحہ 374 نبوت بھی صرف ایک قصہ ہوتا جس کا گزشتہ قرنوں کی طرف حوالہ دیا جاتا۔مگر خدا تعالیٰ نے ایسا نہیں چاہا کیونکہ وہ خوب جانتا تھا کہ اسلام کے زندہ ہونے کا ثبوت اور نبوت کی یقینی حقیقت جو ہمیشہ ہر ایک زمانہ میں منکرینِ وحی کو ساکت کر سکے اسی حالت میں قائم رہ سکتی ہے کہ سلسلہ وحی برنگ محد ثیت ہمیشہ کے لئے جاری رہے۔سواس نے ایسا ہی کیا۔محدث وہ لوگ ہوتے ہیں جو شرف مکالمہ الہی سے مشرف ہوتے ہیں۔اور ان کا جو ہر نفس انبیاء کے جو ہر نفس سے اشد مشابہت رکھتا ہے۔اور وہ خواص عجیبہ نبوت کے لئے بطور آیات باقیہ کے ہوتے ہیں تا یہ دقیق مسئلہ نزول وحی کا کسی زمانہ میں بے ثبوت ہو کر صرف بطور قصہ کے نہ ہو جائے اور یہ خیال ہرگز درست نہیں کہ انبیاء یھم السلام دنیا سے بے وارث ہی گزر گئے اور اب ان کی نسبت کچھ رائے ظاہر کرنا بجز قصہ خوانی کے اور کچھ زیادہ وقعت نہیں رکھتا۔بلکہ ہر ایک صدی میں ضرورت کے وقت ان 66 کے وارث پیدا ہوتے رہے ہیں اور اس صدی میں یہ عاجز ہے۔” اور یقیناً سمجھو کہ خدا تعالیٰ کا اپنے بندوں پر بڑا احسان یہی ہے کہ وہ اسلام کو مردہ مذہب رکھنا نہیں چاہتا۔بلکہ ہمیشہ یقین اور معرفت اور الزام خصم کے طریقوں کو کھلا رکھنا چاہتا ہے۔بھلا تم آپ ہی سوچو کہ اگر کوئی وجی نبوت کا منکر ہو اور یہ کہے کہ ایسا خیال تمہارا سراسر و ہم ہے۔تو اس کے منہ بند کرنے والی بجز اس کے نمونہ دکھلانے کے اور کونسی دلیل ہو سکتی ہے۔کیا یہ خوشخبری ہے یا بدخبری کہ آسمانی برکتیں صرف چند سال