اسماء المہدی علیہ السلام — Page 328
اسماء المهدی جَمْعاً - (كهف100-99) د, صفحہ 328 آیات موصوفہ بالا سے ثابت ہے کہ آخری زمانہ میں عیسائی مذہب اور حکومت کا زمین پر غلبہ ہوگا۔اور مختلف قوموں میں بہت سے تنازعات مذہبی پیدا ہوں گے۔اور ایک قوم دوسری قوم کو دبانا چاہے گی۔اور ایسے زمانہ میں صور پھونک کر تمام قوموں کو دین اسلام پر جمع کیا جاوے گا۔یعنی سنت اللہ کے موافق آسمانی نظام قائم ہوگا اور ایک آسمانی مصلح آئے گا۔در حقیقت اسی مصلح کا نام مسیح موعود ہے۔کیونکہ جبکہ فتنہ کی بنیاد نصاری کی طرف سے ہوگی۔اور خدا تعالیٰ کا بڑا مطلب یہ ہوگا کہ ان کی صلیب کی شان کو توڑے۔اس لئے جو شخص نصاری کی دعوت کے لئے بھیجا گیا۔بوجہ رعایت حالت اس قوم کے جو مخاطب ہے اس کا نام مسیح اور عیسی رکھا گیا۔اور دوسری حکمت اس میں یہ ہے کہ جب نصاری نے حضرت عیسی کو خدا بنایا۔اور اپنی مفتریات کو ان کی طرف منسوب کیا۔اور ہزار ہا مکاریوں کو زمین پر پھیلایا۔اور حضرت مسیح کی قدر کو حد سے زیادہ بڑھا دیا تو اس زندہ اور وحید اور بے مثل کی غیرت نے چاہا کہ اسی امت سے عیسی ابن مریم کے نام پر ایک اپنے بندہ کو بھیجے اور کرشمہ قدرت کا دکھلاوے۔تا ثابت ہو کہ بندوں کو خدا بنانا حماقت ہے۔وہ جسکو چاہتا ہے چن لیتا ہے اور مشت خاک کو افلاک تک پہنچا سکتا ہے“۔روحانی جلد 6 صفحہ 312۔شہادت القرآن )