اسماء المہدی علیہ السلام — Page 329
اسماء المهدی صفحہ 329 ایک امتی کا نام عیسی بن مریم اس لئے رکھا گیا تاکہ صلى الله آنحضرت ﷺ کی عظمت کا اظہار ہو ” میں نے از خود کوئی دعویٰ نہیں کیا۔میں اپنی خلوت کو پسند کرتا تھا۔مگر اللہ تعالیٰ کے مصالح نے ایسا ہی چاہا اور اس نے خود مجھے باہر نکالا۔چونکہ سنت اللہ یہی ہے کہ جب کسی شخص کو اسکی مناسب عزت سے بڑھ کر عظمت دی جاتی ہے تو اللہ تعالی اس عظمت کا دشمن ہو جاتا ہے کیونکہ یہ اسکی توحید کے خلاف ہے۔اسی طرح پر حضرت عیسی علیہ السلام کے لئے وہ عظمت تجویز کر دی گئی تھی جسکے وہ مستحق نہ تھے۔یہاں تک کہ انہیں خدا بنا دیا گیا۔اور خانہ خدا خالی ہو گیا۔عیسائیوں سے پوچھ کر دیکھ لو۔وہ یہی کہتے ہیں کہ عیسی مسیح ہی خود خدا ہے۔اب جس انسان کو اس قدر عظمت دی گئی اور اسے خدا بنایا گیا۔(نعوذ باللہ ) اور اس طرح پر خدا کا پہلو گم کر دیا گیا۔تو کیا خدا تعالیٰ کی غیرت مخلوق کو اس انسان پرستی سے نجات دینے کے لئے جوش میں نہ آتی ؟ پس اس تقاضا کے موافق اس نے مجھے مسیح کر کے بھیجا تا کہ دنیا پر ظاہر ہو جاوے کہ مسیح بجز ایک عاجز انسان کے اور کچھ نہ تھا۔خدا تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے کہ اس کفر کی اصلاح کرے۔اور اس کے لئے یہی راہ اختیار کی کہ آنحضرت ﷺ کی امت کے ایک فرد کو اس نام سے بھیج دیا۔تا ایک طرف آنحضرت ﷺ کی عظمت کا اظہار ہو اور دوسری طرف مسیح کی حقیقت معلوم ہو۔یہ ایسی موٹی بات ہے کہ معمولی