اسماء المہدی علیہ السلام — Page 248
اسماء المهدی صفحہ 248 سِرَاجًا مُنِيرًا ایک امتی کے تعریف کرنے میں دو بزرگ فائدے اس جگہ بعض خاموں کے دلوں میں یہ وہم بھی گذر سکتا ہے کہ اس مندرجہ بالا الہامی عبارت میں کیوں ایک مسلمان کی تعریفیں لکھی گئی ہیں۔سو سمجھنا چاہئے کہ ان تعریفوں سے دو بزرگ فائدے متصور ہیں جن کو حکیم مطلق نے خلق اللہ کی بھلائی کے لئے مد نظر رکھ کر ان تعریفوں کو بیان فرمایا ہے۔ایک یہ کہ تا نبی متبوع کی متابعت کی تاثیریں معلوم ہوں۔اور تا عامہ خلائق پر واضح ہو کہ حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کی کس قدر شانِ بزرگ ہے۔اور اس آفتاب صداقت کی کیسی اعلیٰ درجے پر روشن تا تیریں ہیں جس کا اتباع کسی کو مومن کامل بناتا ہے، کسی کو عارف کے درجے تک پہنچاتا ہے، کسی کو آیت اللہ اور حجت اللہ کا مرتبہ عنایت فرماتا ہے اور محامد الہیہ کا مورد ٹھہراتا ہے۔صلى الله دوسرے یہ فائدہ کہ نئے مستفیض کی تعریف کرنے میں بہت سی اندرونی بدعات اور مفاسد کی اصلاح متصور ہے۔کیونکہ جس حالت میں اکثر جاہلوں نے گزشتہ اولیاء اور صالحین پر صد ہا اس قسم کی تہمتیں لگارکھی ہیں کہ گویا انہوں نے آپ یہ فہمائش کی تھی کہ ہم کو خدا کا شریک ٹھہراؤ۔اور ہم