اسماء المہدی علیہ السلام — Page 132
اسماء المهدی صفحه 132 ہیں کہ آپ کے بعد دروازہ مکالمات و مخاطبات الہیہ کا بند ہے۔اگر یہ معنے ہوتے تو یہ امت ایک لعنتی امت ہوتی جو شیطان کی طرح ہمیشہ سے خدا تعالیٰ سے دُور و مہجور ہوتی بلکہ یہ معنے ہیں کہ براہ راست خدا تعالیٰ سے فیض وحی پانا بند ہے اور یہ نعمت بغیر اتباع آنحضرت ﷺ کے کسی کو ملنا محال اور ممتنع ہے۔اور یہ خود آنحضرت ﷺ کا فخر ہے کہ ان کی اتباع میں یہ برکت ہے کہ جب ایک شخص پورے طور پر آپ کی پیروی کرنے والا ہو تو وہ خدا تعالیٰ کے مکالمات اور مخاطبات سے مشرف ہو جائے۔ایسا نبی کیا عزت اور کیا مرتبت اور کیا تاثیر اور کیا قوت قدسیہ اپنی ذات میں رکھتا ہے جس کی پیروی کے دعویٰ کرنے والے صرف اندھے اور نا بینا ہوں۔اور خدا تعالیٰ اپنے مکالمات و مخاطبات سے ان کی آنکھیں نہ کھولے۔یہ کس قدر لغو اور باطل عقیدہ ہے کہ ایسا خیال کیا جائے کہ بعد صلى الله آنحضرت ﷺ کے وحی الہی کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند ہو گیا ہے۔اور آئندہ قیامت تک اس کی کوئی بھی امید نہیں۔صرف قصوں کی پوجا کرو۔پس کیا ایسا مذ ہب کچھ مذہب ہو سکتا ہے جس میں براہ راست خدا تعالیٰ کا کچھ بھی پتہ نہیں لگتا۔میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس زمانہ میں مجھ سے زیادہ بیزارایسے مذہب سے اور کوئی نہ ہوگا۔میں ایسے مذہب کا نام شیطانی مذہب رکھتا ہوں نہ کہ رحمانی۔اور میں یقین رکھتا ہوں کہ ایسا مذہب جہنم کی طرف لے جاتا ہے اور اندھا رکھتا ہے اور اندھا ہی مارتا ہے اور اندھا ہی قبر میں لے جاتا ہے۔