حضرت نعمت اللہ ولیؒ اور اُن کا اصلی قصیدہ — Page 31
۳۱ این غزوہ تا به شش سال باشد همه بدنیا خون ریخته بتربان سلطان غازیانہ خالد شود علمدار در مک ہائے کفار ! فی النار گشته کفاره از لطف آن یگانه اعراب نیز آئند از کوه و دشت و ہاموں سیلاب آئینے از ہر طرف روانہ آخر بموسم حج مہدی خروج سازند اں شہرۀ خروجش مشهور در جهانه خاموش نعمت الله اسرار حتی مکن فاش در سال كُنتُ کنزاً باشد چنین بیانه پہلے منعی فقید و مطبوعہ ۱۹۰۶ ء میں تبدیلی مؤلف کتاب تعلیماتِ جدیدہ پر ایک نظر نے متذکرہ بالا جعلی قصیدہ درج کرنے کے علاوہ پہلا وضعی قصیدہ مطبوعہ ۲۱۹۰۶ بھی کافی تصرف کے ساتھ درج کتاب کیا اور ساتھ ہی یہ تبدیلی کر ڈالی کہ جس شعر میں سلطان مغرب کے لئے ۱۲۷۰ ہجری کا سال درج تھا۔اسے ۱۳۸۰ ھ میں تبدیل کر کے یوں لکھ دیا :- پانصد و هفتاد ہجری آن زمانے گفته شد IWA۔یک ہزار و سی صد و هشتاد آن پیدا شود