اشکوں کے چراغ — Page 45
45 پھر کوئی طرفہ تماشا کر دے میں برا ہوں مجھے اچھا کر دے کہیں ایسا ہو نہ کوئی لمحہ تجھ کو چھو کر تجھے تنہا کر دے لفظ مر جائے اگر بچپن میں اس کا وارث کوئی پیدا کر دے بخش دے میری علامت مجھ کو میرے سر پر مرا سایہ کر دے رنگ و بو بانٹ دے اس سے لے کر پھول کے بوجھ کو ہلکا کر دے میں ہوں آلودہ گرد غفلت مجھ کو چھو کر مجھے اُجلا کر دے میں بکھر جاؤں تو مجھ کو چن کر اپنے آنگن میں اکٹھا کر دے