اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 46 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 46

46 46 مجھ کو ڈر ہے کہ مری خاموشی کوئی تجھ سے نہ تقاضا کر دے آج کی صبح ہے صبح صادق آج ہر خواب کو سچا کر دے میں بھی پہچان لوں خود کو شاید میری جانب مرا چہرہ کر دے چھین کر اشک سے اس کی آواز اور بھی اس کو نہتا کر دے مجھ کو ڈر ہے کہ سرِ بزم ”ادب“ تو کہیں ذکر نہ میرا کر دے نہ آئنے ٹوٹ جائیں مضطر ! دل کی دیوار کو سیدھا کر دے