اشکوں کے چراغ — Page 44
44 چڑھ بھی اے آنکھ کے سیے سورج! اب تو پلکوں پہ اُجالا کر دے مل نہ جائے کہیں آوازوں میں میری آواز کو رسوا کر دے مجھ کو ڈر ہے کہ یہ میرا آنسو تیرے دامن کو نہ میلا کر دے میں تجھے دل تو دکھا دوں مضطر ! تو اگر اس کا نہ چرچا کر کر دے