اشکوں کے چراغ — Page ix
ہماری طرف نہ عدو کی طرف 299 دوشعر ہم اکیلے ہیں بے حضور نہیں 300 واویلا کرتا ہوا را ون آیا ہے زلف و رخ کے اسیر رہنے دے 301 تیر جب اس کمان سے نکلا عاشقی جتنی وفادار ہوئی جاتی ہے 302 یہ کرم ہو گیا یا ستم ہو گیا حد نظر سے دور افق پار دیکھنا یہ کون سر غار حرا بول رہا ہے 303 ہونے کو وہ شوخ بہت مشہور ہوتا 304 ہو گیا سنسان کمرہ اس کا چہرہ دیکھ کر قصیدہ تہنیت بر موقع آغاز نشریات ایم ٹی اے 305 یہ پیٹ کیا اُگا ہے امسال گھر کے اندر مفہوم کو لفظوں کا دریچہ نہیں ملتا 307 لذت غم سے بہرہ ور کرنا منزلوں کی حکایتیں کرتے 309 اندر سے اگر نہ مسکراؤں پھسلنے کا اگر امکان ہوتا 310 نہیں وہ شخص تو ایسا نہیں ہے صبح اندیشے ، شام اندیشے 311 تری نظر کا اگر اعتبار کر لیتے کفر کا الزام میرے نام تھا 312 قریب رہ کے بھی وہ ہم سے دور اتنا تھا یہ خلش سی جو آبلے میں ہے 313 جنگل ہوں قدیم خارونس کا اشک جو آنکھ کے قفس میں ہے 315 مجھ کو بھی شفق شمار کر لے گھر سے نکلے تھے بے ارادہ بھی 317 مفہوم سے الجھوں کبھی الفاظ سنبھالوں 330 331 333 334 335 337 339 341 342 343 345 347 349 351 353 354 355 357 جلنے کا شوق تھا تو وہ جلتا تمام رات 319 دھوپ میں جو ملنے آیا ہے جلنے لگا مکاں تو گلی سوچنے لگی 321 زندان ہجر میں کوئی روزن نہ باب تھا بے سبب اور بے صدا ٹوٹا 323 کرسی پہ بیٹھ کر بھی وہ کتنا ملول تھا آپ کے لب پر پیار ہو، دل میں پیار نہ ہو 325 یہ سفر بھی دور کا ہے، یہ ہے دن بھی ڈھلنے والا 358 در کھٹکھٹا رہا ہے قفس کا زمانہ کیا 327 ناداں ! نا حق کیوں گھبراتا ہے 359 سپنوں میں بادلوں کی بارات لے کے آنا 329 پتھر اٹھائیے، کوئی دشنام دیجیے 360