اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page viii of 679

اشکوں کے چراغ — Page viii

روح زخمی جسم گھائل ہو گئے 270 241 کچھ یہاں اور کچھ وہاں گزری آہٹوں سے ہے سارا گھر آباد 243 ترے لب پہ بھول کر بھی مرا نام تک نہ آیا 271 حیرت سے ہے خود کو تک رہا کیا 245 کس لیے سائے سے ڈرتے ہو میاں! تو قریب رگ جاں تھا پہلے 246 کہہ رہا تھا نہ سن رہا کوئی بے سبب بھی کسی بہانے بھی 247 اشک در اشک سیاحت کی ہے آنسوؤں کی بھری بہار کے بعد 248 آئنے کا دل نہ اب چیرمیں بہت تو مے کا ذکر کراے کے گسار! آہستہ آہستہ 249 وہ یہیں آس پاس ہے اب بھی روٹھ کر جب وہ گل عذار گیا اپنوں ہی کا جھگڑا ہے نہ دشمن سے ہے کچھ کام 253 اپنے سائے سے ڈر رہے ہیں لوگ پھر وہی ذکر سرِ وادی سینا ہوگا 251 نہ ذکر دوری منزل، نہ فکر جادہ کریں 272 273 274 275 276 277 279 255 میں جب بھی اس کی محبتوں کی ، صداقتوں کی کتاب لکھوں 281 صاحبزادہ مرزا غلام قادر صاحب کی شہادت پر 257 دل و جاں پر اس کی حکومت تو ہے عزیزان کلیم شاہ اور نسیم شاہ کی وفات پر 260 جس نے دیکھا اسے، دیکھتا رہ گیا 261 گرنے کو ہے مکان ، مگر تم کو اس سے کیا اچانک جھنگ کی تقدیر جاگی دیوار رنگ ہر کہیں حائل ہے راہ میں 262 چاہنے والوں کو ڈسنے والا جن کے لیے تو خوار ہوا شہر شہر میں 263 شعور رغم طبق اندر طبق ہے 264 سوچتا ہوں کہ کوئی تجھ سے بڑا کیا ہوگا 283 285 287 288 289 291 صلح ہوگی نہ لڑائی ہوگی صبانے شکوہ کیا ہے قفس نشینوں سے 265 روح کی لذت بن کر برسا مولا! تیری ذات کا نام 293 فرصت شام الم پوچھتے ہیں 266 راتوں کو اٹھ کے آنکھ کا آب حیات پی یہ رستے پوچھتے ہیں کارواں سے 267 ہو گئے ہم تو پاش پاش بہت کبھی ان کا لطف و کرم دیکھتے ہیں 268 لفظ مر جائیں تو مفہوم بھی مرجاتے ہیں ذکر شبنم نه فکر خار کرو 269 کیسے بات کروں ٹھنڈے انسانوں سے 295 296 297 298