اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page x of 679

اشکوں کے چراغ — Page x

حقیقت ہے یہ استعارہ نہیں ہے 361 یوں تو کرنے کو احتیاط بھی کی محبت کے اظہار تک آ گیا ہوں 363 سر چھپانے کا بندوبست تو ہے اسی کو قرب ،اسی کو صلہ بھی کہتے ہیں 364 کوئی شکوہ، کوئی گلہ کرلیں اس قدرمت خموش جان ہمیں تم اپنے مرتبے کو کم نہ کرنا جسم میں رکھنا، جان میں رکھنا 365 یوں تو سورج سے تصادم مل گیا 366 ذکر اپنا بھی تمھارا کیا 367 تم اگر اتنے بے اُصول نہ ہو عہد ہوں، ایک اذیت اپنے اندر لے کر بیٹھا ہوں 369 سچا تو کائنات کو سچا دکھائی دے 371 عمر بھر اشک کی آواز پہ چلنے والے! سر عام سب کو خفا کر چلے گہرائیوں میں غم کی اتر جانا چاہیے 372 اتنا احسان اور کر دینا راہ کی روشنی منزل کا اجالا دینا 391 393 395 396 397 398 399 401 402 373 آنکھیں لے کر نکلے تھے آئینوں کے دلدادہ لوگ 403 405 رکنے کے بعد بھی میں برا بر سفر میں تھا 375 راہرور ستے میں بیٹھا رہ گیا میرا نامہ پڑھ کے میرا نامہ بر ہنسنے لگا 376 وہ دل میں آ کے نہ ٹھہریں کبھی گزر تو کریں 406 اپنا اپنا تھا، پر ایا تھا پر ایا پھر بھی 377 گھومتا پھرتارہے ہے قیس دن بھر گاؤں میں 407 378 رات ڈھل جائے گی ، سورج کا سفر بھی ہوگا 409 وہ اپنے حال پہ ہنستا تو ہوگا تیرے سوا تو کوئی مرارا ہبر نہ تھا 379 تم عہد کی آواز سے ڈر کیوں نہیں جاتے ناداں اُلجھ رہے تھے عبث آفتاب سے 381 دین مانگے نہ یہ دنیا مانگے دل نادان پہ حیران نہ منظر! ہونا 383 نظر کے لمس سے دامن نہیں بچائے گا کوئی کلاہ نہ کوئی لبادہ رکھتے ہیں 385 سحر پسند تو سب ہیں سحر چشیدہ نہیں میرے اس کے درمیاں تو فاصلہ کوئی نہ تھا 387 ساز آواز میں ڈھل جاتا ہے رنگ و بو کا سفر تمام ہوا 388 چادر سروں پر کوئی تو اے آسمان ! دے 411 413 414 415 417 419 کس کی یاد آ گئی نا گہاں شہر میں 389 اس کے دل میں اب بھی احساس زیاں کوئی نہ تھا 421