اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page vii of 679

اشکوں کے چراغ — Page vii

اس شہر انتخاب کے پتھر اٹھا لیے 184 مت بھٹکتا پھرا کرے کوئی آنسو ابل کے دیدہ مضطر میں آگئے 185 ہم ہوئے ، چشم باطنی نہ ہوئی ہم ، یارکودیکھنے اغیار کالشکر نکلا 187 نے یہ تائید تمنا نے بہت تکمیل طلب کچھ وہی لوگ سرفروش رہے 189 چراغ شام مرجھایا تو ہوگا یشے میں جو ہو جائے سفارش کی پری بند 190 سحر نصیب ہے، سچی دعاؤں جیسا ہے 191 گل یہ کرتا ہوا فریاد آیا 215 216 217 218 219 221 193 خود منم اٹھ کے چلے آئے صنم خانے سے 222 عقل کا اندھا ہے، دیوانہ نہیں عرش پر جب اثر گیا ہوگا بحتة وہ اگر گیا ہوگا 195 ہجر کی رات مختصر نہ ہوئی اٹھتے اٹھتے اٹھے نقاب بہت 197 پیرانِ مے کدہ ہوئے ، اہلِ حرم ہوئے تصدیق چاہتا ہے اگر، آفتاب لا 199 تم نہ ٹالے سے بھی ملے صاحب ہر دید حضوری تو نہ ہو دے زخم کریدو، شور کرو، فریاد کرو 201 آہٹ کا اثر دہام بھی زنداں صدا کا ہے 202 مضطر سے تو کس لیے خفا ہے اس فیصلے میں میرا اگر نام آئے گا 203 محفل ضبطِ فغاں کی اب بھی قائل ہے قصہ یہ ہے کہ جس کو بھی دیکھا قریب سے 204 ہم ہوئے یا کوئی رقیب ہوا یہ اک اور قیامت ڈھائی لوگوں نے 205 کس لیے تو سامنے آیا نہ تھا پھر کسی سوچ نے گھونگھٹ کھولا میں جب بھی سر دیدہ تر گیا 207 ہوس کی وہ آندھی چلی شہر میں 208 تو کہیں اس سے ڈرر ہا تو نہیں مل ہی جائے گی دل کی منزل بھی 209 ذکر رخسار و چشم و اب کیا ہے کسی کے روکنے سے کم رکے گا 211 التفات نگاہِ یار تو ہے میں بچھڑ تو گیا ، جدا نہ ہوا طائر غم جو کبھی نغمہ سرا ہوتا ہے 213 عرش سے فرش تک، پھول سے خار تک 214 عقل تنہا، دل ناداں تنہا 223 224 225 227 228 229 230 231 233 234 235 237 239 240