اشکوں کے چراغ — Page vi
کوئی آواز کا بھوکا،کوئی پیاسا نکلے 129 یادوں کی گزر گئیں سپاہیں میں خطا کار بھی تھا، لائق تعزیر بھی تھا 131 کہتی ہیں یہ منتظر نگا ہیں ورائے اشک اسے عمر بھر پکارا تھا 133 روکے سے نہ رک سکیں گی آہیں اندھیرا اب ادھر شاید نہ آئے اندر آنکھیں، باہر آنکھیں 135 دھرتی کو نہ آگ سے بیا ہیں 137 حادثہ یوں تو ٹل گیا ہے بہت تم عہد کے حالات رقم کیوں نہیں کرتے 138 میں برا اور وہ بھلا ہے بہت وہ بے ادب حدود سے باہر نکل گیا 139 چھوڑ کر عقل کی باتیں ساری نہ میں اس سے، نہ وہ مجھ سے ملا ہے 141 شور ہونے لگا پتنگوں میں شب ہائے بے چراغ کی کوئی سحر بھی ہو 143 تھک کے واپس آگئی چشم سوال آنکھ میں جو آ نسولر زا تھا میں تھا یا میرا سایہ تھا 145 یار خود آ گیا قریب مرے 147 کچھ تو دنیا بھی آنی جانی لگی خدمت کے مقام پر کھڑا ہوں 149 مرا بیاں ہے بہت مختصر بھی ، سادہ بھی 150 جانے کیا جی میں ٹھان بیٹھے ہیں بال جب آئنے میں آنے لگا پھر مجھے اندلس بلانے لگا تم کو بھی کوئی بدد عالگتی 151 ارمغاں ہے یہ پیر کامل کا 153 دل کی منزل بھی سر نہ ہو جائے اسے یہ ڈر ہے زمین پر آسماں گرے گا 154 صبح عہد شباب ہو جیسے ہر ایک سے گلے ملا ، ہنس کر جدا ہوا 155 یوں سوالات سر میں رہتے ہیں 161 162 163 164 165 167 169 170 171 172 173 174 175 176 177 178 179 180 مجھ سے کہتی ہے یہ اب میری گراں جانی بھی 157 حادثہ وہ جو اب کے سال ہوا اگر آتا نہ ہوا نکار پڑھنا اپنوں کو بھی پکارے، غیروں کا دم بھرے بھی 159 وہ چاہتا تھا کہ دو چار روز ہنس کے رہے حد ادراک تک پھیلی ہوئی ہیں رنگ کی گلیاں 160 نہ ہم فقیروں کی خاطر، نہ آشنا کے لیے 158 کبھی بہار کوتر سے کبھی خزاں سے ڈرے 181 182 183