اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 627 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 627

627 ☆ فرقت کا چاک اب کے برس بھی نہ رسل سکا میں سنگِ راہ اپنی جگہ سے نہ ہل سکا مضطر کو اس کی شامت اعمال کے سبب اب کے برس بھی اذن حضوری نہ مل سکا (2008) قریب تھا کہ مرا حال مجھ یہ کھل جاتا مرا ضمیر ترازو کے تول تل جاتا نہیں تھی تاب مجھے اپنے اشک عریاں کی سنبھل کے ملتا تو سارا وجود ڈھل جاتا ☆ گھپ اندھیرا بھی بہت زیادہ تھا اندازے سے روشنی لوٹ گئی شہر کے دروازے سے پھول وہ پھول جو محتاج نہیں موسم کا حسن وہ حسن جو مانوس نہیں غازے سے عجمی ہوں نہ میں اعرابی ہوں گرد بادِ رہِ بے تابی ہوں حالت جنگ میں رہتا ہوں سدا احدی ہوں کبھی احزابی ہوں