اشکوں کے چراغ — Page 626
626 تہمت چند ساتھ لے کے زندگی کی زکوۃ لے کے چلے پیاس اتنی شدید تھی اب کے ساتھ نہر فرات لے کے چلے عقل و ہوش و حواس، وہم و گماں کتنے لات و منات لے کے چلے جو کہنا ہے کھل کر کہا جائے ناں اگر کہہ بھی دیں تو سنا جائے ناں یہ دل ہی تو ہے اس کا کیا کیجئے ہے تو آ جائے ناں کہ آنے لگے گلی کوچے ربوے کے ہیں منتظر اسے بھی کہو کہ وہ آ جائے ناں ہرگز وہ خموشی سے نہ انکار سے نکلے جو کام مری جرات اظہار سے نکلے کیا جانیے کیا ان کا ارادہ تھا سرِ شام سائے جو بھرے شہر کی دیوار سے نکلے