اشکوں کے چراغ — Page 628
628 ☆ جو خواب دیکھوں تو خواب اس کا ہو سوال اسی کا جواب اس کا ہو ☆ فراز دار سے اتروں تو کوئی بات کروں زمیں پہ دن کو گزاروں فلک پہ رات کروں خالی ہے جان خالی ہے کھلے ہیں مکان خالی ہے اور بات ہے اس کو آنکھ پڑھ نہیں سکتی ہاتھ کی ہتھیلی پر کچھ لکھا تو ہوتا ہے دل ہے در حبیب ہے اور اذنِ عام ہے اے بے ادب سمبھل یہ ادب کا مقام ہے کہو تم جانور کتنے ہو اور انسان کتنے ہو اگر گننے پر آجاؤں تو میری جان کتنے ہو؟ ☆ پھول مسکرائیں گے تیرے مسکرانے سے اپنا غم چھپالیں گے ہم بھی اس بہانے سے