اشکوں کے چراغ — Page 616
616 ہجر کی رات دن ہے فرقت کا کوئی لمحہ نہیں ہے فرصت کا کے بہر سلام آیا ہے ایک ادنی غلام حضرت کا تیری دلداریاں گنوں کیسے نام لوں کیسی کیسی شفقت کا میں تو گھائل ہوں روز اوّل سے تیری صورت کا تیری سیرت کا داہنے ہاتھ میں ہو فردِ عمل وقت جب آئے میری رحلت کا آسماں پر پیش ہے کا میں ہوں امیدوار مہلت تیرے قدموں میں موت ہو میری ملتمس ہوں میں اس عنایت کا