اشکوں کے چراغ — Page 615
615 خدا کے واسطے آہستہ بولو پرندے سو رہے ہیں آشیاں میں فرشتے آ رہے ہیں فوج در فوج نہ تھے یہ معجزے وہم و گماں میں کناروں تک زمیں کے روشنی ہے چڑھا ہے چاند امشب قادیاں میں کھلی ہیں کھڑکیاں اور روشنی ہے کوئی تو جاگتا ہے اس مکاں میں وو مٹا جب فرق اچھے اور بُرے کا عدو جب بڑھ گیا شور و فغاں میں نہاں ہم ہو گئے یارِ نہاں میں