اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 617 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 617

617 ہیں جڑیں گہری ہیں اور شاخیں گھنی بوڑھے پیڑ قسمت کے دھنی ہیں نہ ڈھے جائیں کہیں ان بارشوں میں بڑی مشکل سے دیواریں بنی ہیں بہت شفاف ہیں اندر لوگ کہ خالی ہاتھ ہیں دل کے عنی ہیں ابھی آیا نہیں وقت رخصت ابھی کچھ روز سڑکیں ناپنی ہیں کیا ہے کہ ان میں جان پڑ جائے بڑے جتنوں سے تصویریں بنی ہیں کسی طوفان کی ہیں پیش خیمہ یہ سر پر بدلیاں کی جو تنی ہیں رنگا رنگ کے ہیں پھول مضطر سپید و سُرخ ہیں اور کاسنی ہیں