اشکوں کے چراغ — Page 592
592 برائی زمین و زماں میں نہیں مکینوں میں ہے یہ مکاں میں نہیں ہے ہے تجھے دیکھ کر تیرا انکار کر دے کوئی ت کسی بدگماں میں نہیں ہے وجه ترک تعلق عزیزو! مرے آپ کے درمیاں میں نہیں ہے دھوکا لگا ہے مرے معترض کو کہ وہ معرض امتحاں میں نہیں ہے اگر آپ آ جائیں واپس تو کیا ہے جو ر بوے میں اور قادیاں میں نہیں ہے منتظر ہیں شکاری بڑی دیر سے پرنده مگر آشیاں میں نہیں ہے گلی میں تو چرچا ہے اب بھی اسی کا سنا ہے کہ مالک مکاں میں نہیں ہے