اشکوں کے چراغ — Page 591
591 کہیں انکار ہی کی سزا تو نہیں فتنوں فتنے ابھرتے ہوئے خود وصل کی رُت میں بھی تم ہو کیوں دم بہ کیوں زباں رک گئی بات کرتے ہوئے مجھ کو تسلیم ہیں ساری گستاخیاں شرم آتی مضطر مکرتے ہوئے
by Other Authors
591 کہیں انکار ہی کی سزا تو نہیں فتنوں فتنے ابھرتے ہوئے خود وصل کی رُت میں بھی تم ہو کیوں دم بہ کیوں زباں رک گئی بات کرتے ہوئے مجھ کو تسلیم ہیں ساری گستاخیاں شرم آتی مضطر مکرتے ہوئے