اشکوں کے چراغ — Page 590
590 امتحاں سے گزرتے ہوئے ہم بھی حاضر ہوئے ڈرتے ڈرتے ہوئے ہجر کی رت میں یہ کس کی یاد آ گئی آپ کیوں رک گئے بات کرتے ہوئے شرم سے ڈوب کر مر گیا معترض ہم امر ہو گئے مرتے مرتے ہوئے اوج قطبین قطبين پر بھی ہیں گرم سفر ننگے پاؤں مسافر ٹھٹھرتے ہوئے سائے انکار کے منجمد ہو گئے گھٹتے گھٹتے ہوئے بڑھتے بڑھتے ہوئے آئنہ دیکھنے کی نہ جرات ہوئی عمر گزری تھی بنتے سنورتے ہوئے چاند سورج بھی ہیں دائیں بائیں کھڑے صبح صادق کی تصدیق کرتے ہوئے