اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 582 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 582

582 کلاشنکوف کی اور ہیروان کی سنا ہے گرم بازاری بہت ہے ہوں تیرے رتجگے تجھ کو مبارک مجھے سحری کی بیداری بہت ہے تو عادی قتل ناحق کا لیکن ہے خود اپنی جاں تجھے پیاری بہت ہے تخت و تاج ہوں تجھ کو مبارک مجھے سولی کی سرداری بہت ہے مبارک تجھ کو تیری پارسائی مجھے اپنی خطا کاری بہت ہے میں تیری ہاں میں ہاں کیسے ملا دوں دل نادان انکاری بہت ہے میں ہنستا مسکراتا جا رہا ہوں اگر چه زخم بھی کاری بہت ہے خریدو عشق کو، لیکن سنبل کر کہ اس میں چور بازاری بہت ہے ہے جی اٹھا اسلم قریشی خبر لیکن یہ اخباری بہت ہے