اشکوں کے چراغ — Page 581
581 تری آنکھوں میں عیاری بہت ہے صداقت کم اداکاری بہت ہے ہے فقیه شهر، درباری بہت اور اس کی سوچ سرکاری بہت ہے مری تکفیر کے فتوے سے تجھ پر حکومت کا نشہ طاری بہت ہے الٹی آنکھ کے ہیں کارنامے کہ سیدھی نور سے عاری بہت ہے میں کیسے مان لوں اسلام تیرا یہ اسلام سرکاری بہت ہے لب چٹا جھوٹ ہے اعلان تیرا و لہجہ بھی بازاری بہت ہے ادھر ہے تیرا توے دن کا وعدہ اُدھر کرسی تجھے پیاری بہت ہے