اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 583 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 583

583 بتا تو دوں ترے انجام کی بات مگر یہ بات انذاری بہت ہے نہ جانے پھول کا انجام کیا ہو اسے بننے کی بیماری بہت ہے اسیر زلفِ جاناں ہو چکے ہیں ہمیں اتنی گرفتاری بہت ہے عجب کیا جاتے جاتے رک بھی جاؤں اگر چہ اب کے تیاری بہت ہے گزرنے میں نہیں آتا مضطر ہے لمحہ ہجر کا بھاری بہت ہے