اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page v of 679

اشکوں کے چراغ — Page v

85 89 91 92 93 95 97 99 100 101 آدھی رات کے آنسو! ڈھل 51 قصیده لامیه روح کے جھروکوں سے اذنِ خود نمائی دے 52 جاں بلف اشک بجام آئے گی وہ اسم اگر تحریر کروں 53 وہ زمانہ بھی کیا زمانہ تھا اشک چشم تر میں رہنے دیجیے 54 اس کو اتنا نہ آزمانا تھا بات سنتے نہ بات کرتے ہو 55 جلا کر مرا پہلے گھر احتیاطاً موت ہے نہ حیات ہے یارو! 56 چلی مشین چلی کانٹا سا کھڑا ہے کوئی بن میں 57 وصل کے دن ہیں، رت ہے الفت کی بات را تجھے کی نہ قصہ ہیر کا 59 ددے، درد کے خزانے دے عشق اس کے عہد میں بے دست و پا ہو جائے گا 61 کشتہ تیغ انا لگتا ہے وہ ہنسنے کو تو ہنس رہا ہوئے گا برف 63 دیں جدا دینے لگے ، دنیا جدا دینے لگے 65 مجھ سے کہتے ہیں یہ عاشق بانورے(تضمین) 103 جھگڑے ہے پھول پھول ،لڑے ہے کلی کلی 67 لائی ہے بادِ صبا اُس پار سے خبر عظیم (تضمین) 107 احساس کو بھی جانچ، نظر کو ٹول بھی 69 تم کو بھی آتشِ نمرود میں جلتا دیکھوں مشتعل ہے مزاج کانٹوں کا جس حسن کی تم کو جستجو ہے شرم ہی کچھ ، حجاب سا کچھ ہے 110 71 نادان! اپنے جہل پر مجھ کو نہ کر قیاس (تضمین) 111 73 نا اُمیدانہ سوچتا کیا ہے 75 گفتگو کب کی بند ہے اب تو 77 ہے سارا سوز ، سارا ساز تیرا بے وفا سے وفا طلب کی ہے بادہ خواروں کو اذنِ بادہ ہے 79 سب مومن تھے، تو کافر تھا پھر تیری قسم کا نشانے پر لگا ہے 81 میرا گھر بھی تیرا گھر تھا یادوں کی بارات لیے پھرتا ہوں میں 82 تیل کے تالاب میں مچھلی کا منظر دیکھتے اشکوں نے دل کی دیوار گرا دی ہے 83 جسم اب بھی ہے، جان اب بھی ہے 117 120 121 123 124 125 127