اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 478 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 478

478 ریگ زاروں میں چاندنی ہوئی اب نہ بھوکا رہا کرے کوئی ذرے ذرے کو خون سے سینچا آنسوؤں سے روش روش دھوئی پھول ہنسنے لگے تو ہنستے رہے اوس روئی تو عمر بھر روئی جب محلات میں جگہ نہ ملی زندگی راستوں میں جا سوئی آئنہ دیکھ کر پس تصویر ہنس دیا کوئی، رو دیا کوئی اک فسانہ بنی زمانے میں خامشی اس کی ، میری کم گوئی عشق کی ساکھ اٹھ گئی مضطر! عشق کرنے لگا ہے ہر کوئی