اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 479 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 479

479 کیا کیا نہ تو نے ہم پر احسان کر دیا ہے ساری صداقتوں کا اعلان کر دیا ہے قول و عمل کو ایسا یکجان کر دیا ہے ہر حرکت و سکوں کو قرآن کر دیا ہے جو کچھ تھا گھر میں تجھ پر قربان کر دیا ہے تو نے تو زندگی کو آسان کر دیا ہے تیری نظر نہیں تھی ، اک معجزہ تھا جس نے حیوان کو اُٹھا کر انسان کر دیا ہے جتنے بھی بہت تھے، تو نے سارے گرا دیے ہیں سارے صنم کدوں کو ویران کر دیا ہے اس کا معاوضہ تو لے گا نہیں کسی سے جو کچھ دیا ہے تو نے یہ جان کر دیا ہے دریا بنا دیا ہے قطرے کو اک نظر سے جس لہر کو چھوا ہے طوفان کر دیا ہے چشم کرم تو ہو گی مضطر حقیر پر بھی جب دوسروں پہ اتنا احسان کر دیا ہے تو نے جو بخش دی ہے مدحت کی یہ سعادت مضطر کی مغفرت کا سامان کر دیا ہے (اگست، ۱۹۸۸ء)