اشکوں کے چراغ — Page 477
477 اول تو اپنی آنکھ کا پانی لہو کرو پھر اس لہو سے رات کو اُٹھ کر وضو کرو لیٹے ہوئے ہو کس لیے سولی کی اوٹ میں تم مر نہیں گئے ہو، اُٹھو گفتگو کرو مجھ کو بھی اپنے آپ سے ملنے کا شوق ہے مجھ کو پکڑ کے لاؤ ، مرے روبرو کرو اچھے بُرے کے پھیر میں پڑتے ہو کس لیے جو کچھ کے حبیب وہی ہو بہو کرو کانٹوں کے تاج، دارورسن ، گالیوں کے پھول سارا انتظام سپرد عدد کرو ”تم لوگ لوگ“ اور بار امانت اٹھا سکو! اللہ ہو ، تم اللہ ہو اللہ ہو کرو مضطر ! غم حبیب تو مولا کی دین ہے اس غم کا بھول کر بھی نہ چرچا کبھو کرو