اشکوں کے چراغ — Page iv
ترتیب پیغام دین حضرت ایلیا ایس ای ساید ال عالی بنصرہ العزیز ۱۳ وہ بولتا ہے تو سارا جہان بولتا ہے لوح دیباچه کتاب سخن ۱۷ مضطر جی! اک کام کرونا غلام نوازیاں ۲۳ اتنی مجبوریوں کے موسم میں الله په چه په بیا لا اله الله له مان له له چه ند نه تن به م 25 27 28 29 31 32 33 34 35 37 38 39 41 42 43 45 47 49 حرف و حکایت (احمد ندیم قاسمی) سمت ہے اس کی نہ حد آؤ حسن یار کی باتیں کریں جاگ اے شرمسار! آدھی رات 3 ہم نے جب دو چار غزلیں گائیاں 1 زیر لب کہیے، بر ملا کہیے بچہ سچا کیوں لگتا ہے 5 اندھیرا روشنی سے ڈر رہا ہے گھرا ہوا تھا میں جس روز نکتہ چینوں میں 7 زمیں کا زخم بھی اب بھر رہا ہے مصروف ہے سینوں میں اک آذر پوشیدہ و گھر کے کواڑ زیر زباں بولنے لگے کانٹے ہیں اور پاؤں میں چھالے پڑے ہوئے 11 تیرے کوچے میں بکھر جاؤں اگر ! صلہ کوئی تو سر اوج دار دینا تھا اٹھتے اٹھتے نقاب چہروں کے 13 اپنے اندر کی بھی سیاحت کر 15 تلاش منزل تان کر چہروں کی چادر دھوپ کو ٹھنڈا کیا 17 مجھ کو مرے روبرو نہ کرنا ہری بھری گلفام ہیں نیلی پیلی ہیں 18 فرقت کو وصال کر دیا ہے چاند نگر کے چشمے خون اگلتے ہیں تنہائی 19 دل دیا ہے تو اب اتنا کر دے 20 پھر کوئی طرفہ تماشا کر دے چراغ دشت کی لوبل گئی ہے 23 گلشن سے وہ جب نکل رہا تھا ہجوم رنگ سے گھبرا گئی ہے 24 میں ہی تو نہیں پکھل رہا تھا