اشکوں کے چراغ — Page 442
442 ہے مونس و غمخوار یہی اس کی ازل سے دھرتی سے جدا ہو کے کدھر جائے گا پانی یوں جبر وستم سے اسے رکنا نہیں آتا روکو گے تو کچھ اور بھر جائے گا پانی برسے گا سر بزم وفا ٹوٹ کے مضطر! جائے گا تو اس شوخ کے گھر جائے گا پانی
by Other Authors
442 ہے مونس و غمخوار یہی اس کی ازل سے دھرتی سے جدا ہو کے کدھر جائے گا پانی یوں جبر وستم سے اسے رکنا نہیں آتا روکو گے تو کچھ اور بھر جائے گا پانی برسے گا سر بزم وفا ٹوٹ کے مضطر! جائے گا تو اس شوخ کے گھر جائے گا پانی