اشکوں کے چراغ — Page 443
443 نہ سہی دوست، کوئی دشمن کامل اٹھے کوئی ہنگامہ ، کوئی نعرہ باطل اٹھے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہو گے کب تک در زنداں نہ کھلے، شورِ سلاسل اٹھے دوست احباب، اعزہ و اقارب کے سوا اتنی فرصت ہی کسے میرے مقابل اٹھے شدّتِ شوق تھی یا قحط یقین کامل منزل آئی تو نہ پاؤں سوئے منزل اٹھے کتنے سوکھے ہوئے آنسو سر مژگاں لرزے کتنے سوئے ہوئے طوفاں سر ساحل اٹھے ہم بھی اظہارِ تمنا کی اجازت پا کر منہ سے کچھ کہہ نہ سکے صورت سائل اٹھے پھر سر بزم جنوں عہد کے کچھ فرزانے گھر سے حجت کے لیے آئے تھے، قائل اُٹھے