اشکوں کے چراغ — Page 441
441 موسم کے مراحل سے گزر جائے گا پانی برسے گا تو کچھ اور اُتر جائے گا پانی لرزے گا سر چشم اگر فرط حیا سے شبنم کی طرح رُخ پہ بکھر جائے گا پانی انکار کے قطبین پہ سردی ہے بلا کی نفرت کے تبسم سے ٹھٹھر جائے گا پانی شبنم۔ہو، ندامت کا پسینہ ہو کہ آنسو جتنا بھی سنوارو گے سنور جائے گا پانی فرقت کی صلیب اُس کو اُٹھانی ہی پڑے گی راتوں کو نہ جاگے گا تو مر جائے گا پانی حیران نگاہوں سے کہو اس کو نہ دیکھیں آئینہ ہے آئینوں سے ڈر جائے گا پانی اس کو تو بچھڑ کر بھی بچھڑنا نہیں آتا مل جائے گا پانی میں جدھر جائے گا پانی