اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 427 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 427

427 آئی ہے اس کی یاد یوں سونے گھروں کے بیچ جیسے کوئی گلاب کھلے پتھروں کے بیچ محصور خیمہ زن ہیں سر دشت کربلا بیٹھے ہوئے ہیں ہم بھی انھی بے گھروں کے بیچ لایا ہوں اوج دار سے اس کو اتار کر لپٹا ہوا ہے سر جو نئی چادروں کے بیچ دیکھا قریب سے تو نظارہ بدل گیا اور اختلاف بڑھ گیا دیدہ وروں کے بیچ آباد ہو رہے ہیں پرانے صنم کدے بت مسکرا رہے ہیں نئے آذروں کے بیچ نکلے ہیں لوگ عمر گزشتہ کو ڈھونڈنے انسان کھو گیا ہے کہیں مقبروں کے بیچ سب ڈھے گئی ہے شہر پنہ شہر ذات کی اب دائرے ہی دائرے ہیں دائروں کے بیچ