اشکوں کے چراغ — Page 426
426 عقل پہ قبضہ کر رکھا ہے اوروں نے اس جاگیر کو اب اپنوں کے نام کرو صُمٌّ بُكُم عُمی کی دیواروں سے روزن روزن تفهیم و افہام کرو میری غزلیں گاؤ شہروں گلیوں میں مجھ پر پتھر پھینکو، مجھے سلام کرو پتھر ہوں تو کام لو کوئی پتھر سے چہرہ ہوں تو آئینہ انعام کرو ٹھیس نہ لگ جائے گونگے سناٹوں کو صوت و صدا کو خاموشی الہام کرو دامن تھام لو سوہنے سچے مرشد کا ہر رہ چلتے کو مت پیش امام کرو زندہ رہنے کی اب ایک ہی صورت ہے سوتے جاگتے مضطر! شور مدام کرو