اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 425 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 425

425 لمحے بیچ دیے، صدیاں نیلام کرو وقت حسین ہے اس کا قتل عام کرو اندر آ جاؤ دل کے دروازے سے راہ میں رک کے ٹریفک کومت جام کرو جیسے بھی ہو اس کی کوکھ سے نکلے ہو نادانو ! دھرتی کا کچھ اکرام کرو آنکھیں ہوں تو اپنی صورت پہچانو آئینوں کو مت زیر الزام کرو پردہ اُٹھ جانے دوگھور اندھیروں۔روشنیوں کا چرچا صبح و شام کرو ایسا نہ ہو میں گھل مل جاؤں غیروں میں میرے دوست بنو، مجھ کو بدنام کرو عادت نہ پڑ جائے سفر میں جھکنے خیمے اونچے رکھو جہاں مقام کرو