اشکوں کے چراغ — Page xlvi
۴۳ بھی ہے تو مقطع میں اپنا تخلص داخل کر کے انہیں کم سے کم چھپواہی دے تا کہ چودھری صاحب کو یہ تسلی تو ہو کہ ان کی کاوش مکمل طور پر غارت نہیں ہوگئی۔البتہ چور کو اپنا خلص داخل کرتے ہوئے عجلت سے کام نہیں لینا چاہیے جیسے ایک شاعر متخلص بہ گنہ گاڑ“ نے لیا تھا کہ ایک پرانے شاعر مصحفی کی غزل چرائی اور اپنا تخلص یوں شامل کیا کہ مصرع بحر سے خارج ہو کر ساحل پر جا پڑا مصحفی کا مصرع تھا:۔مصحفی! ہم تو یہ سمجھے تھے کہ ہو گا کوئی زخم آپ نے اسے یوں اپنایا :- گنہگار! ہم تو یہ سمجھے تھے کہ ہو گا کوئی زخم جناب محمد علی چودھری فلسفی ہیں اس لیے بہت سادہ مزاج ہیں۔سوفر ماتے ہیں کہ ممکن ہے چور صاحب نے یہ کا غذات بریف کیس میں سے نکال کر پھینک دیے ہوں اور کسی راہ چلتے کومل گئے ہوں، چنانچہ ان راہ چلتے صاحب سے بھی گزارش ہے کہ اگر وہ یہ کا غذات اور مسودات چودھری صاحب کو واپس کر دیں تو وہ ان انعامات کے مستحق ہوں گے جن کا اس سے قبل چوری کے اشتہار میں اعلان کیا جا چکا ہے۔کچھ کر لو نوجوانو! اٹھتی جوانیاں ہیں امروز - 28 ستمبر، 1977ء)