اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page xlv of 679

اشکوں کے چراغ — Page xlv

۴۲ کے قصیدے پڑھے اور انہیں یہ بھی سمجھایا کہ اگر وہ ہماری عینک کو اپنے استعمال میں لائے تو انہیں اپنی آنکھوں کا نمبر بدلوانے کا تر ددکرنا پڑے گا۔مگر افسوس کہ کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی اور ہم اپنی اس یادگار عینک سے ہمیشہ کے لیے محروم ہو گئے۔اب ہمارے ایک کرم فرما جناب محمد علی چودھری نے ، جو ایف سی کالج لاہور میں شعبہ فلسفہ کے صدر ہیں ہمیں مطلع کیا ہے کہ دوماہ سے زیادہ عرصہ گزرا ان کا بریف کیس ایک دوست کی بظاہر مقفل گاڑی میں سے پولیس چوکی سمن آباد سے تین چار فرلانگ کے فاصلے پر چوری ہو گیا۔اخبارات میں اشتہارات دیئے، انعامات کا بھی اعلان کیا لیکن بریف کیس نہ ملا۔چودھری صاحب فرماتے ہیں کہ بریف کیس میں نہایت قیمتی کا غذات تھے۔اگر یہ کا غذات ہی کسی طرح انھیں واپس مل جاتے تو چوری کے دکھ میں معتد بہ افاقہ ہوجاتا۔ان کی خواہش پر ہم محترمی چور صاحب سے اپیل کرتے ہیں کہ بریف کیس بے شک اپنے پاس رکھیے مگر چودھری صاحب کے کاغذات واپس فرما دیجیے۔آر عنداللہ ماجور ہوں گے۔ہمیں یقین ہے کہ جب چور صاحب ان کا غذات کی تفصیل سنیں گے تو ان کی واپسی کے لیے بے چین ہو جائیں گے۔بات یہ ہے کہ جناب محمد علی چودھری شاعر بھی ہیں۔چنانچہ وہ اپنی ان تقریباً تین درجن غزلوں کو بھی قیمتی کا غذات میں شامل فرماتے ہیں۔ستم یہ ہے کہ یہ بھی غزلیں غیر مطبوعہ ہیں اور ستم بالائے ستم یہ کہ شاعر کے ذہن سے یہ غزلیں محو ہو چکی ہیں۔چنانچہ ان کا وجود اگر کہیں ہے تو اس بریف کیس میں ہے جو شاعر صاحب سے چورصاحب کو منتقل ہو چکا ہے۔ہم اس اپیل میں اپنی طرف سے یہ اضافہ کرنا چاہتے ہیں کہ اگر چور اتفاق سے شاعر