اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 339 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 339

339 یہ پیٹر کیا اُگا ہے امسال گھر کے اندر موسم بدل گیا ہے قلب و نظر کے اندر ہیں سینکڑوں در بیچے دیوار و در کے اندر مخفی نہیں کسی سے جو کچھ ہے گھر کے اندر یہ آنے جانے والی پگڈنڈیاں نہیں ہیں اُلفت کے راستے ہیں میرے نگر کے اندر اے مسکرانے والے! تو جانتا نہیں ہے ہم بھی ہیں اک حقیقت شام وسحر کے اندر چندھیا گئی ہیں جس سے میری نحیف آنکھیں یہ کون آ گیا ہے یوں بن سنور کے اندر اندر سے کر سکو گے طوفان کا تماشا آؤ نا بیٹھ جاؤ تم بھی بھنور کے اندر جب بھی کیا ہے ان سے تصویر کا تقاضا خود چل کے آگئے ہیں وہ چشم تر کے اندر