اشکوں کے چراغ — Page 338
338 ہر طرف آنکھیں ہی آنکھیں جیتی جلتی ، جاگتی ڈر گیا وہ شوخ بھی آنکھوں کا پہرہ دیکھ کر اپنے بنجر ہاتھ پر اتنے نہ گل بوٹے بنا تو کہیں قائل نہ ہو جائے تماشہ دیکھ کر ہو چکا ہے ٹوٹ کر تقسیم اک انبوہ میں لوگ تنہا جانتے ہیں اس کو تنہا دیکھ کر پھر حسین ابن علی پہنچے سر نہر فرات پھر فلک نیچے اتر آیا نظارہ دیکھ کر پھر وہی اظہار کی سولی ہے اور منظر ! ہوں میں پھر مجھے لفظوں نے آگھیرا اکیلا دیکھ کر (۱۸۷۹-۸۰ء)