اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 340 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 340

340 اندر کے آدمی کا آساں نہیں ہے مرنا زندہ ہے آدمیت اب بھی بشر کے اندر کامل ہو راہبر تو ہر اک قدم ہے منزل یہ تجربہ ہوا ہے اب کے سفر کے اندر کوئی تو ہو رہا ہے اعلان آسماں پر ہلچل مچی ہوئی ہے شمس و قمر کے اندر ڈر ہے نکل نہ جائے یہ پھاڑ کر چھتوں کو وہ قوت نمو ہے، مضطر ! شجر کے اندر