اشکوں کے چراغ — Page 320
320 آواز اور سرحد آواز سے پرے صوت و صدا کا سلسلہ چلتا تمام رات پیاسے کو چاہیے تھا کہ پیاسوں کے درمیاں چھپ کر نہ آنسوؤں کو نگلتا تمام رات ق اس کو اگر جلاتی نہ یہ آگ ہجر کی پہلو نہ کرب سے میں بدلتا تمام رات نظریں اُٹھا کے دیکھ نہ سکتا اسے مگر دیکھے بنا بھی دل نہ بہلتا تمام رات مضطر بھی اس کے سائے میں سو جاتا چین سے فرقت کا پیٹر پھولتا پھلتا تمام رات