اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 321 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 321

321 جلنے لگا مکاں تو گلی سوچنے لگی نگی نکور دھوپ جلی سوچنے لگی آنکھیں اُگی ہوئی تھیں گلی میں ، مگر گلی پھر بھی نہ سوچنے سے ٹلی، سوچنے لگی سوئی ہوئی تھی عمر گزشتہ کی سیج پر جاگی تو مسکرا کے کلی سوچنے لگی روٹھی ہوئی تھی زندگی سوکھی زمین سے بارش ہوئی تو اچھی بھلی سوچنے لگی واپس کبھی تو آئیں گے مالک مکان کے خالی مکاں کی بند گلی سوچنے لگی ڈھلنے کو رات ہجر کی ڈھل تو گئی مگر اک بار ڈھل کے پھر نہ ڈھلی ،سوچنے لگی شبنم جو چھپ کے پھول سے اتری تھی پھول پر خوشبو کا خون پی کے ٹلی، سوچنے لگی زخموں کو سی رہی تھی گزرتی ہوئی صدی اشکوں نہائی پلکوں پلی سوچنے لگی