اشکوں کے چراغ — Page 319
319 جلنے کا شوق تھا تو وہ جلتا تمام رات پتھر تھا، موم بن کے پگھلتا تمام رات منظور تھا اگر اُسے دھرتی کا احترام پاؤں تلے نہ اس کو کچلتا تمام رات نہ چاند ہوتا اگر نکلنے کا انتظار باہر کوئی نہ گھر سے نکلتا تمام رات ہوتی اگر نہ یاد کی کھڑکی کھلی ہوئی امید کا چراغ نہ جلتا تمام رات در کھٹکھٹاتا رہتا وہ اپنے مکان کا خود سے ملے بغیر نہ ٹلتا تمام رات منزل پہ جا پہنچتا مسافر ضمیر کا گرتا تمام رات، سنبھالتا تمام رات اتنا بھی کیا کہ اپنی ہی آہٹ سے ڈر گیا ڈھلنے لگا تھا اشک تو ڈھلتا تمام رات