اشکوں کے چراغ — Page 318
318 یوں تو منزل بھی تھی قریب بہت راستہ تھا بہت کشادہ بھی اس کے نقش قدم پر چل نکلے ہم اگر چہ تھے پا پیادہ بھی ہم نے ہنس کر اُٹھا لیا مضطر ! جس قدر بوجھ اس نے لادا بھی
by Other Authors
318 یوں تو منزل بھی تھی قریب بہت راستہ تھا بہت کشادہ بھی اس کے نقش قدم پر چل نکلے ہم اگر چہ تھے پا پیادہ بھی ہم نے ہنس کر اُٹھا لیا مضطر ! جس قدر بوجھ اس نے لادا بھی