اشکوں کے چراغ — Page 314
314 حملہ آور ہیں آج آدم خور آدمیت محاصرے میں ہے چور ہے کوئی دیوار گرنے والی ہے کوئی طوفان راستے میں ہے اک مکان کے اندر ایک جاسوس قافلے میں ہے ایک انبوہ ناشناساں ہے جو ازل سے مقابلے میں ہے بند کر دے گا سارے دروازے معترض اس مغالطے میں ہے کہہ رہی ہے کتاب مدت سے ایک انجام راستے میں ہے عقل دل کی غلام بھی مضطر ! دل بھی اب عقل کے کہے میں ہے