اشکوں کے چراغ — Page 313
313 خلش سی جو آہلے میں ہے تحس سزا میں ہے، کس صلے میں ہے قصر نمرود زلزلے میں ہے بت شکن کوئی بت کدے میں ہے زندگی کا طلسم ہوش ربا آج بھی گن کے مرحلے میں ہے بات ہے ایک بات کے اندر دائرہ ایک دائرے میں ہے وہ مرا اشک ناتمام کہیں ایک مدت سے راستے میں ہے وہ گل نا شگفته فردا مسکرانے کے مرحلے میں ہے لاکھ چھپ کر بھی وہ گل خوبی عکس در عکس آئنے میں ہے ہمنشیں ہے نہ کوئی ہمسایہ وہ اکیلا ہے اور مزے میں ہے حادثہ ہے کہ خوش نصیب ہوں میں میرا گھر اس کے راستے میں ہے فاصلہ بھی ہے قرب کے اندر قرب بھی ایک فاصلے میں ہے