اشکوں کے چراغ — Page 315
315 اشک جو آنکھ کے قفس میں ہے ایک سجدے کی دسترس میں ہے دل ناداں! یہ عشق کا الزام تیرے بس میں نہ میرے بس میں ہے صبح صادق بھی امتحان ہے ایک ابتلا ایک چاند رس میں ہے رقص ہے ایک دل کی دھڑکن میں ایک دُھرپد نفس نفس میں ہے ایک گمنام آتش خاموش اب بھی موجود خار و خس میں ہے اس کی حد ہے نہ کوئی سرحد ہے و نظر بند جس قفس میں ہے سامنے ہے قیامت صغری اور تُو ہے کہ پیش و پس میں ہے