اشکوں کے چراغ — Page 308
308 سیلاب کو شکوہ کہ مرا ذوق ہے پایاب کو شکایت کہ کنارہ نہیں ملتا دیکھو تو نظر آتے ہیں یہ لوگ تہی دست سوچو تو سر دار انھیں کیا نہیں ملتا یہ آگ کا دریا تھا کہ سنگلاخ زمیں تھی مضطر کا کہیں نقش کف پا نہیں ملتا
by Other Authors
308 سیلاب کو شکوہ کہ مرا ذوق ہے پایاب کو شکایت کہ کنارہ نہیں ملتا دیکھو تو نظر آتے ہیں یہ لوگ تہی دست سوچو تو سر دار انھیں کیا نہیں ملتا یہ آگ کا دریا تھا کہ سنگلاخ زمیں تھی مضطر کا کہیں نقش کف پا نہیں ملتا